کبھی سوچا ہے کہ ہم بستری میں آخر ایسی بات کیا ہے جو مردوں کو بعد میں فوراً ہی بے ہوش ہوجانے پر مجبور کر دیتی ہے؟

ہم بستری کے بعد کی مردانہ غنودگی کیلئے آپ پرولیکٹین ہارمون کو ذمہ دار ٹھہرا سکتی ہیں۔

پرولیکٹین ڈوپامین کو دباتا ہے – ایک ایسا تحریک دینے والا نیوروٹرانسمیٹر جو آپ کو بیدار محسوس کرواتا ہے۔ اور جب وہ انزال کا شکار ہو تو اُس کا جسم اس کی بڑی مقدار خارج کرتا ہے۔ آپ کا جسم، البتہ وہ ہارمون اتنا پیدا نہیں کرتا۔

ہم بستری کے دوران “اچھا محسوس کروانے والا” ہارمون آکسی ٹوسین بھی بڑھ جاتا ہے جو اُس کے ذہن سے کوئی بھی نفسیاتی دباؤ پیدا کرنے والی سوچوں کو دبا دیتا ہے اور اُس کیلئے بعد میں پرسکون ہونے اور سو جانے کو آسان بنا دیتا ہے۔ اور (مزے کی بات) اگر آپ روشنیاں گل کر کے ہم بستری کریں، تو یہ آپ کے جسم کی اندرونی گھڑی کو اشارہ دیتا ہے کہ سونے کا وقت ہو گیا۔ جب یہ ہوتا ہے تو میلاٹونن ہارمون اُس کا نیند کا چکر شروع کر دیتا ہے۔

جب پرولیکٹین، آکسیٹوسین، اور میلاٹونین سب مل جائیں، تو یہ بنیادی طور پر کسی بھی سنجیدہ نیند کی گولی کا قدرتی ورژن ہوتا ہے – اور وہ ایک زبردست نیند کییلئے تیار ہو جاتا ہے۔ اگرچہ یہ بات اُس کیلئے زبردست ہے، لیکن اگر آپ نے کوئی کام کرنے ہوں، مثلاً اُس کے ساتھ چمٹنا، گھر کے کام کاج نمٹانا، یا کوئی بھی ایسی چیز جو نیند کے علاوہ ہو، تو ایک سوتے ہوئے ساتھی کے ساتھ وقت گزاری کوئی پسندیدہ کام نہیں ہوتا۔

اپنے سیکس کے بعد کے وقت کو Weekend at Bernie’s فلم کی طرح ہنگامہ خیز رکھنے کیلئے، یقینی بنائیں کہ ملاپ کی ایک ایسی پوزیشن اپنائیں جو افقی نہ ہو۔ بات ظاہری سی لگتی ہے، لیکن کمر کے بل لیٹنا آپ کے جسم کو اشارہ دیتا ہے کہ نیند کا وقت ہے۔

اُس کے سیکس کوما کا مقابلہ کرنے کا ایک اور طریقہ: سب کچھ روشنیاں جلا کر کریں۔ اُس طرح، وہ اپنا نیند کا چکر یک دم شروع نہیں کر دے گا، بقول اُس کے۔

آخری مشورہ یہ ہے کہ جب آپ فارغ ہو جائیں، تو بستر سے نکل جائیں۔ زندگی بھر، آپ کے دماغ نے بستر کو نیند کے مقام کے طور پر وابستہ رکھا ہے۔ لہٰذا اُس کیلئے سونے کی طلب سے مقابلہ کرنا تقریباً ناممکن ہی ہوگا اگر آپ خاموشی سے وہیں لیٹی رہیں۔ لہٰذا چمٹنے کی پارٹی کاؤچ پر لے جائیں۔

LEAVE A REPLY