سچ یہ ہے: اگر آپ کا گھٹانے والا وزن خاصی بڑی مقدار میں ہے تو آپ صرف کیلوریز گھٹا کر ہی اپنے حدف تک پہنچ سکتی ہیں۔ فی دن اپنی عمومی خوراک سے 500 کیلوریز کی کمی فی ہفتہ وزن کے  ایک پاؤنڈ کی کمی کے برابر ہو گا۔

لیکن براہِ کرم آگاہ رہیں کہ جب آپ اِس انداز میں وزن گھٹا رہی ہوں تو آپ نہ صرف چربی گھٹا رہی ہوتی ہیں، بلکہ عضلات بھی ضائع کر رہی ہوتی ہیں۔ ایک صحت مند، متناسب جسم برقرار رکھنے کیلئے عضلات ناگزیر ہوتے ہیں۔ آپ کو وزن گھٹاتے ہوئے عضلات برقرار یا تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈائٹنگ کرتے ہوئے عضلات کو برقرار رکھنے کا واحد طریقہ ہے ورزش کرنا اور اوزان سے کسرت کرنے پر زور دینا۔

وزن گھٹانے کے بعد جسمانی چربی کی زیادہ شرح فیصد سے اجتناب کرنا

ورزش کے بغیر وزن گھٹانے کا بڑا نقصان یہ ہے کہ جب آپ کا کیلوریز لینے کا عمل عمومی حالت پر لوٹ آتا ہے تو آپ کا وزن بڑھ جائے گا۔ جب آپ ورزش کے بغیر وزن گھٹانے کے بعد اُسے دوبارہ بڑھا لیں، تو آپ گھٹی ہوئی عضلاتی کمیت خودکار طور پر واپس نہیں پا لیں گے۔ آپ کا زیادہ تر واپس بڑھا ہوا وزن چربی کے ذخائر میں ہو گا، لہٰذا آپ کی جسمانی چربی کی شرح فیصد ابتدائی وزن کی کمی سے زیادہ ہو گی۔

آپ زیادہ فربہ اور کم عضلاتی ہو جائیں گی۔ عضلات چربی سے زیادہ کیلوریز جلاتے ہیں، لہٰذا یہ منطقی بات ہہے کہ آپ کا عضلات بمقابل چربی کا تناسب جتنا زیادہ ہو گا، آپ کا BMR (وہ شرح جس سے آپ کا جسم کیلوریز استعمال کرتا ہے) بھی اتنا ہی زیادہ ہو گا۔

اگر آپ اِسی چکر کو دہراتے رہیں تو آپ کے BMI (جسمانی کمیت کے شمار) توازن بگڑ جاتا ہے، جس سے وزن گھٹانا زیادہ مشکل سے مشکل ہوتا جاتا ہے کیونکہ آپ کی چربی بمقابل عضلات کا تناسب اتنا خراب ہو چکا ہوتا ہے۔ اگر آپ کا وزن شروع کرنے کے وقت کے وزن سے کم بھی ہو تب بھی آپ موٹی ہو جاتی ہیں۔

LEAVE A REPLY